Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گذاریں

کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گذاریں فریاد کریں کس سے کہاں جاکے پکاریں ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سے شاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں دل میں جو کبھو جوش غم اٹھتا ہے تو تا دیر آنکھوں سے چلی جاتی ہیں دریا کی سی دھاریں کیا ظلم ہے اس خونی عالم کی گلی میں جب ہم گئے دوچار نئی دیکھیں مزاریں جس جا کہ خس و خار کے اب ڈھیر لگے ہیں یاں ہم نے انھیں آنکھوں سے دیکھیں ہیں بہاریں کیونکر کے رہے شرم مری شہر میں جب آہ ناموس کہاں اتریں جو دریا پہ ازاریں وے ہونٹ کہ ہے شور مسیحائی کا جن کی دم لیویں نہ دوچار کو تا جی سے نہ ماریں منظور ہے کب سے سرشوریدہ کا دینا چڑھ جائے نظر کوئی تو یہ بوجھ اتاریں بالیں پہ سر اک عمر سے ہے دست طلب کا جو ہے سو گدا کس کنے جا ہاتھ پساریں ان لوگوں کے تو گرد نہ پھر سب ہیں لباسی سوگز بھی جو یہ پھاڑیں تو اک گز بھی نہ واریں ناچار ہو رخصت جو منگا بھیجی تو بولا میں کیا کروں جو میر جی جاتے ہیں سدھاریں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR