Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آجائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں

آجائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں مہلت ہمیں بسان شرر کم بہت ہے یاں یک لحظہ سینہ کوبی سے فرصت ہمیں نہیں یعنی کہ دل کے جانے کا ماتم بہت ہے یاں حاصل ہے کیا سواے ترائی کے دہر میں اٹھ آسماں تلے سے کہ شبنم بہت ہے یاں مائل بہ غیر ہونا تجھ ابرو کا عیب ہے تھی زور یہ کماں ولے خم چم بہت ہے یاں ہم رہروان راہ فنا دیر رہ چکے وقفہ بسان صبح کوئی دم بہت ہے یاں اس بت کدے میں معنی کا کس سے کریں سوال آدم نہیں ہے صورت آدم بہت ہے یاں عالم میں لوگ ملنے کی گوں اب نہیں رہے ہر چند ایسا ویسا تو عالم بہت ہے یاں ویسا چمن سے سادہ نکلتا نہیں کوئی رنگینی ایک اور خم و چم بہت ہے یاں اعجاز عیسوی سے نہیں بحث عشق میں تیری ہی بات جان مجسم بہت ہے یاں میرے ہلاک کرنے کا غم ہے عبث تمھیں تم شاد زندگانی کرو غم بہت ہے یاں دل مت لگا رخ عرق آلود یار سے آئینے کو اٹھا کہ زمیں نم بہت ہے یاں شاید کہ کام صبح تک اپنا کھنچے نہ میر احوال آج شام سے درہم بہت ہے یاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR