Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ساقی کی باغ پر جو کچھ کم نگاہیاں ہیں

ساقی کی باغ پر جو کچھ کم نگاہیاں ہیں مانند جام خالی گل سب جماہیاں ہیں تیغ جفاے خوباں بے آب تھی کہ ہمدم زخم بدن ہمارے تفسیدہ ماہیاں ہیں مسجد سے میکدے پر کاش ابر روز برسے واں رو سفیدیاں ہیں یاں روسیاہیاں ہیں جس کی نظر پڑی ہیں ان نے مجھے بھی دیکھا جب سے وہ شوخ آنکھیں میں نے سراہیاں ہیں غالب تو یہ ہے زاہد رحمت سے دور ہووے درکار واں گنہ ہیں یاں بے گناہیاں ہیں یہ ناز و سرگرانی اللہ رے کہ ہر دم نازک مزاجیاں ہیں یا کج کلاہیاں ہیں شاہد لوں میر کس کو اہل محلہ سے میں محضر پہ خوں کے میرے سب کی گواہیاں ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR