Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جنوں میرے کی باتیں دشت اور گلشن میں جب چلیاں

جنوں میرے کی باتیں دشت اور گلشن میں جب چلیاں نہ چوب گل نے دم مارا نہ چھڑیاں بید کی ہلیاں گریباں شور محشر کا اڑایا دھجیاں کرکر فغاں پر ناز کرتا ہوں کہ بل بے تیری ہتھ بلیاں تفاوت کچھ نہیں شیرین و شکر اور یوسف میں سبھی معشوق اگر پوچھے کوئی مصری کی ہیں ڈلیاں ترے غمزے نے جو رو ظلم سے آنکھیں غزالوں کی بیاباں میں دکھا مجنوں کو پائوں کے تلے ملیاں چمن کو آج مارا ہے یہاں تک رشک گل رو نے کہ بلبل سر پٹکتی ہے نہیں منھ کھولتیں کلیاں مری آہ سحر کی برچھیاں سختی کی تڑپوں پر نگاہیں کرکے گر پڑتی ہیں بجلی کی بھی اچپلیاں صنم کی زلف میں کوچہ ہے سربستہ ہر اک مو پر نہ دیکھی ہوں گی تونے خضر یہ ظلمات میں گلیاں دوانہ ہو گیا تو میر آخر ریختے کہہ کہہ نہ کہتا تھا میں اے ظالم کہ یہ باتیں نہیں بھلیاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR