Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

تا پھونکیے نہ خرقۂ طامات کے تئیں

تا پھونکیے نہ خرقۂ طامات کے تئیں حسن قبول کیا ہو مناجات کے تئیں کیفیتیں اٹھے ہیں یہ کب خانقاہ میں بدنام کر رکھا ہے خرابات کے تئیں ڈریے خرام ناز سے خوباں کے ہمنشیں ٹھوکر سے یہ اٹھاتے ہیں آفات کے تئیں ہم جانتے ہیں یا کہ دل آشنا زدہ کہیے سو کس سے عشق کے حالات کے تئیں خوبی کو اس کے ساعد سیمیں کی دیکھ کر صورت گروں نے کھینچ رکھا ہات کے تئیں اتنی بھی حرف ناشنوی غیر کے لیے رکھ کان ٹک سنا بھی کرو بات کے تئیں سید ہو یا چمار ہو اس جا وفا ہے شرط کب عاشقی میں پوچھتے ہیں ذات کے تئیں آخر کے یہ سلوک ہم اب تیرے دیکھ کر کرتے ہیں یاد پہلی ملاقات کے تئیں آنکھوں نے میر صاحب و قبلہ ورم کیا حضرت بکا کیا نہ کرو رات کے تئیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR