Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاں

کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاں تم بھی تو ایک رات سنو یہ کہانیاں کیا آگ دے کے طور کو کی ترک سرکشی اس شعلے کی وہی ہیں شرارت کی بانیاں صحبت رکھا کیا وہ سفیہ و ضلال سے دل ہی میں خوں ہوا کیں مری نکتہ دانیاں ہم سے تو کینے ہی کی ادائیں چلی گئیں بے لطفیاں یہی یہی نامہربانیاں تلوار کے تلے ہی گیا عہد انبساط مر مر کے ہم نے کاٹی ہیں اپنی جوانیاں گالی سوائے مجھ سے سخن مت کیا کرو اچھی لگے ہیں مجھ کو تری بدزبانیاں غیروں ہی کے سخن کی طرف گوش یار تھے اس حرف ناشنو نے ہماری نہ مانیاں یہ بے قراریاں نہ کبھو ان نے دیکھیاں جاں کاہیاں ہماری بہت سہل جانیاں مارا مجھے بھی سان کے غیروں میں ان نے میر کیا خاک میں ملائیں مری جاں فشانیاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR