Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

بارہا وعدوں کی راتیں آئیاں

بارہا وعدوں کی راتیں آئیاں طالعوں نے صبح کر دکھلائیاں عشق میں ایذائیں سب سے پائیاں رہ گئے آنسو تو آنکھیں آئیاں ظل حق ہم کو بھی ووہیں چاہیے جوں ہماری ہوتی ہیں پرچھائیاں اس مژہ برہم زدہ نے بارہا عاشقوں میں برچھیاں چلوائیاں نونہال آگے ترے ہیں جیسی ہوں ڈالیاں ٹوٹی ہوئیں مرجھائیاں ایک بھی چشمک نہ اس مہ کی سی کی آنکھیں تاروں نے بہت جھمکائیاں ایک نے صورت نہ پکڑی پیش یار دل میں شکلیں سینکڑوں ٹھہرائیاں رویت اپنی اس گلی میں کم نہیں ہر جگہ ہر بار ماریں کھائیاں بوسہ لینے کا کیا جس دم سوال ان نے باتیں ہی ہمیں بتلائیاں روکشی کو اس کی منھ بھی چاہیے ماہ کے چہرے پہ ہیں سب جھائیاں مضطرب ہوکر کیا سب میں سبک دل نے آخر خفتیں دلوائیاں چل چمن میں یہ بھی ہے کوئی روش ناز تاکے چند بے پروائیاں شوق قامت میں ترے اے نونہال گل کی شاخیں لیتی ہیں انگڑائیاں پاس مجھ کو بھی نہیں ہے میر اب دور پہنچی ہیں مری رسوائیاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR