Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا جو عرض کہ دل سا شکار لایا ہوں

کیا جو عرض کہ دل سا شکار لایا ہوں کہا کہ ایسے تو میں مفت مار لایا ہوں کہے تو نخل صنوبر ہوں اس چمن میں میں کہ سر سے پائوں تلک دل ہی بار لایا ہوں جہاں میں گریہ نہ پہنچا بہم مجھے دلخواہ پہ نوحؑ کے سے تو طوفاں ہزار لایا ہوں نہ تنگ کر اسے اے فکر روزگار کہ میں دل اس سے دم کے لیے مستعار لایا ہوں کسی سے مانگا ہے میں آج تک کہ جی لیوے یہ احتیاج تجھی تک اے یار لایا ہوں پھر اختیار ہے آگے ترا یہ ہے مجبور کہ دل کو تجھ تئیں بے اختیار لایا ہوں یہ جی جو میرے گلے کا ہے ہار تو ہی لے ترے گلے کے لیے میں یہ ہار لایا ہوں چلا نہ اٹھ کے وہیں چپکے چپکے پھر تو میر ابھی تو اس کی گلی سے پکار لایا ہوں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR