Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کوئی نہیں جہاں میں جو اندوہگیں نہیں

کوئی نہیں جہاں میں جو اندوہگیں نہیں اس غم کدے میں آہ دل خوش کہیں نہیں کرتا ہے ابر دعوی دریادلی عبث دامن نہیں مرا تو مری آستیں نہیں آگے تو لعل نو خط خوباں کے دم نہ مار ہر چند اے مسیح وے باتیں رہیں نہیں یہ درد اس کے کیونکے کروں دل نشیں کہ آہ کہتا ہوں جس طرح سے کہے ہے نہیں نہیں ماتھا کیا ہے صرف سجود در بتاں مانند ماہ نو کے مری اب جبیں نہیں کہتا ہوں حال دل تو کہے ہے کہ مت بکے کیوں نئیں تری تو بات مرے دل نشیں نہیں گھر گھر ہے ملک عشق میں دوزخ کی تاب و تب بھڑکا نہ ہم کو شیخ یہ آتش یوہیں نہیں ضائع کیا میں اپنے تئیں تونے کی خوشی بے مہر کیونکے جانیے تجھ میں کہ کیں نہیں فکربلند سے میں کیا آسماں اسے ہر یک سے میر خوب ہو یہ وہ زمیں نہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR