Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاں

مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاں جاتی ہیں لامکاں کو دل شب کی زاریاں چہرے پہ جیسے زخم ہے ناخن کا ہر خراش اب دیدنی ہوئی ہیں مری دستکاریاں سو بار ہم نے گل کے گئے پر چمن کے بیچ بھر دی ہیں آب چشم سے راتوں کو کیاریاں کشتے کی اس کے خاک بھرے جسم زار پر خالی نہیں ہیں لطف سے لوہو کی دھاریاں تربت سے عاشقوں کے نہ اٹھا کبھو غبار جی سے گئے ولے نہ گئیں رازداریاں اب کس کس اپنی خواہش مردہ کو رویئے تھیں ہم کو اس سے سینکڑوں امیدواریاں پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں کیا جانتے تھے ایسے دن آجائیں گے شتاب روتے گذرتیاں ہیں ہمیں راتیں ساریاں گل نے ہزار رنگ سخن سر کیا ولے دل سے گئیں نہ باتیں تری پیاری پیاریاں جائوگے بھول عہد کو فرہاد و قیس کے گر پہنچیں ہم شکستہ دلوں کی بھی باریاں بچ جاتا ایک رات جو کٹ جاتی اور میر کاٹیں تھیں کوہکن نے بہت راتیں بھاریاں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR