Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

نہ گیا خیال زلف سیہ جفاشعاراں

نہ گیا خیال زلف سیہ جفاشعاراں نہ ہوا کہ صبح ہووے شب تیرہ روزگاراں نہ کہا تھا اے رفوگر ترے ٹانکے ہوں گے ڈھیلے نہ سیا گیا یہ آخر دل چاک بے قراراں ہوئی عید سب نے پہنے طرب و خوشی کے جامے نہ ہوا کہ ہم بھی بدلیں یہ لباس سوگواراں خطر عظیم میں ہیں مری آہ و اشک سے سب کہ جہان رہ چکا پھر جو یہی ہے باد و باراں کہیں خاک کو کو اس کی تو صبا نہ دیجو جنبش کہ بھرے ہیں اس زمیں میں جگرجگر فگاراں رکھے تاج زر کو سر پر چمن زمانہ میں گل نہ شگفتہ ہو تو اتنا کہ خزاں ہے یہ بہاراں نہیں تجھ کو چشم عبرت یہ نمود میں ہے ورنہ کہ گئے ہیں خاک میں مل کئی تجھ سے تاجداراں تو جہاں سے دل اٹھا یاں نہیں رسم دردمندی کسی نے بھی یوں نہ پوچھا ہوئے خاک یاں ہزاراں یہ اجل سے جی چھپانا مرا آشکار ہے گا کہ خراب ہو گا مجھ بن غم عشق گل عذاراں یہ سنا تھا میر ہم نے کہ فسانہ خواب لا ہے تری سرگذشت سن کر گئے اور خواب یاراں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR