Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سوزش دل سے مفت گلتے ہیں

سوزش دل سے مفت گلتے ہیں داغ جیسے چراغ جلتے ہیں اس طرح دل گیا کہ اب تک ہم بیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں بھری آتی ہیں آج یوں آنکھیں جیسے دریا کہیں ابلتے ہیں دم آخر ہے بیٹھ جا مت جا صبر کر ٹک کہ ہم بھی چلتے ہیں تیرے بے خود جو ہیں سو کیا چیتیں ایسے ڈوبے کہیں اچھلتے ہیں فتنہ درسر بتان حشر خرام ہائے رے کس ٹھسک سے چلتے ہیں نظر اٹھتی نہیں کہ جب خوباں سوتے سے اٹھ کے آنکھ ملتے ہیں اس سر زلف کا خیال نہ چھوڑ سانپ کے سر ہی یاں کچلتے ہیں تھے جو اغیار سنگ سینے کے اب تو کچھ ہم کو دیکھ ٹلتے ہیں شمع رو موم کے بنے ہیں مگر گرم ٹک ملیے تو پگھلتے ہیں میر صاحب کو دیکھیے جو بنے اب بہت گھر سے کم نکلتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR