Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

وحشت میں ہوں بلا گر وادی پر اپنی آئوں

وحشت میں ہوں بلا گر وادی پر اپنی آئوں مجنوں کی محنتیں سب میں خاک میں ملائوں ہنس کر کبھو بلایا تو برسوں تک رلایا اس کی ستم ظریفی کس کے تئیں دکھائوں فریادی ہوں تو ٹپکے لوہو مری زباں سے نالے کو بلبلوں کے خاطر میں بھی نہ لائوں پوچھو نہ دل کے غم کو ایسا نہ ہووے یاراں مانند روضہ خواں کے مجلس کے تیں رلائوں لگتی ہے آگ تن میں دیکھے سے داغ اس کے اس دل جلے ہوئے پہ کتنا ہی جی جلائوں اک دم تو چونک بھی پڑ شور و فغاں سے میرے اے بخت خفتہ کب تک تیرے تئیں جگائوں از خویش رفتہ ہر دم فکر وصال میں ہوں کتنا میں کھویا جائوں یارب کہ تجھ کو پائوں عریاں تنی کی شوخی وحشت میں کیا بلا تھی تہ گرد کی نہ بیٹھی تا تن کے تیں چھپائوں اگلے خطوں نے میرے مطلق اثر نہ بخشا قاصد کے بدلے اب کے جادو مگر چلائوں دل تفتگی نے مارا مجھ کو کہاں مژہ دے اک قطرہ آب تا میں اس آگ کو بجھائوں آسودگی تو معلوم اے میر جیتے جی یاں آرام تب ہی پائوں جب جی سے ہاتھ اٹھائوں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR