Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا کہوں کیا رکھتے تھے تجھ سے ترے بیمار چشم

کیا کہوں کیا رکھتے تھے تجھ سے ترے بیمار چشم تجھ کو بالیں پر نہ دیکھا کھولی سو سو بار چشم ہجر میں پاتا نہیں گریے کے سر رشتے کو میں ہر سحر اٹھ باندھ دے ہے آنسوئوں کا تار چشم گوئیا ناسور زخم دل تھی یہ اے ہم نشیں پیش ازیں کیا کیا سمیں دکھلاتی تھی خوں بار چشم سینکڑوں ہوں کشتنی تو لاویں کچھ تاب نگاہ ایک دو کا کام کب ہے اس سے ہونا چار چشم جرم کیا غیروں کا طالع چشم پوشی کرتے ہیں دیکھ کر احوال میرا موند لے ہے یار چشم روز و شب وا رہنے سے پیدا ہے میر آثار شوق ہے کسو نظارگی کا رخنۂ دیوار چشم

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR