Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مندا ہے اختلاط کا بازار آج کل

مندا ہے اختلاط کا بازار آج کل لگتا نہیں ہے دل کا خریدار آج کل اس مہلت دو روزہ میں خطرے ہزار ہیں اچھا ہے رہ سکو جو خبردار آج کل اوباشوں ہی کے گھر تجھے پانے لگے ہیں روز مارا پڑے گا کوئی طلبگار آج کل ملنے کی رات داخل ایام کیا نہیں برسوں ہوئے کہاں تئیں اے یار آج کل گلزار ہورہے ہے مرے دم سے کوے یار اک رنگ پر ہے دیدئہ خوں بار آج کل تاشام اپنا کام کھنچے کیونکے دیکھیے پڑتی نہیں ہے جی کو جفا کار آج کل کعبے تلک تو سنتے ہیں ویرانہ و خراب آباد ہے سو خانۂ خمار آج کل ٹھوکر دلوں کو لگنے لگی ہے خرام میں لاوے گی اک بلا تری رفتار آج کل ایسا ہی مغبچوں میں جو آنا ہے شیخ جی تو جارہے ہیں جبہ و دستار آج کل حیران میں ہی حال کی تدبیر میں نہیں ہر اک کو شہر میں ہے یہ آزار آج کل اچھا نہیں ہے میر کا احوال ان دنوں غالب کہ ہو چکے گا یہ بیمار آج کل

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR