Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جو دیکھو مرے شعر تر کی طرف

جو دیکھو مرے شعر تر کی طرف تو مائل نہ ہو پھر گہر کی طرف کوئی داد دل آہ کس سے کرے ہر اک ہے سو اس فتنہ گر کی طرف محبت نے شاید کہ دی دل کو آگ دھواں سا ہے کچھ اس نگر کی طرف لگیں ہیں ہزاروں ہی آنکھیں ادھر اک آشوب ہے اس کے گھر کی طرف بہت رنگ ملتا ہے دیکھو کبھو ہماری طرف سے سحر کی طرف بخود کس کو اس تاب رخ نے رکھا کرے کون شمس و قمر کی طرف نہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کر ہوا تھا مری چشم تر کی طرف ٹپکتا ہے پلکوں سے خوں متصل نہیں دیکھتے ہم جگر کی طرف مناسب نہیں حال عاشق سے صبر رکھے ہے یہ دارو ضرر کی طرف کسے منزل دلکش دہر میں نہیں میل خاطر سفر کی طرف رگ جاں کب آتی ہے آنکھوں میں میر گئے ہیں مزاج اس کمر کی طرف

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR