Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کر

کہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کر پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر وہ تنگ پوش اک دن دامن کشاں گیا تھا رکھی ہیں جانمازیں اہل ورع نے تہ کر کیا قصر دل کی تم سے ویرانی نقل کریے ہو ہو گئے ہیں ٹیلے سارے مکان ڈھہ کر ہم اپنی آنکھوں کب تک یہ رنگ عشق دیکھیں آنے لگا ہے لوہو رخسار پر تو بہ کر رنگ شکستہ اپنا بے لطف بھی نہیں ہے یاں کی تو صبح دیکھے اک آدھ رات رہ کر برسوں عذاب دیکھے قرنوں تعب اٹھائے یہ دل حزیں ہوا ہے کیا کیا جفائیں سہ کر ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا اسرار عاشقی کا پچھتائے یار کہہ کر طاعت کوئی کرے ہے جب ابر زور جھومے گر ہوسکے تو زاہد اس وقت میں گنہ کر کیوں تو نے آخر آخر اس وقت منھ دکھایا دی جان میر نے جو حسرت سے اک نگہ کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR