Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دیکھ اس کو ہنستے سب کے دم سے گئے اکھڑ کر

دیکھ اس کو ہنستے سب کے دم سے گئے اکھڑ کر ٹھہرے ہے آرسی بھی دانتوں زمیں پکڑ کر کیا کیا نیاز طینت اے ناز پیشہ تجھ بن مرتے ہیں خاک رہ سے گوڑے رگڑ رگڑ کر قد کش چمن کے اپنی خوبی کو نیو چلے ہیں پایا پھل اس سے آخر کیا سرو نے اکڑ کر وہ سر چڑھا ہے اتنا اپنی فروتنی سے کھویا ہمیں نے اس کو ہر لحظہ پائوں پڑ کر پاے ثبات بھی ہے نام آوری کو لازم مشہور ہے نگیں جو بیٹھا ہے گھر میں گڑ کر دوری میں دلبروں کی کٹتی ہے کیونکے سب کی آدھا نہیں رہا ہوں تجھ سے تو میں بچھڑ کر اب کیسا زہد و تقویٰ دارو ہے اور ہم ہیں بنت العنب کے اپنا سب کچھ گیا گھسڑ کر دیکھو نہ چشم کم سے معمورئہ جہاں کو بنتا ہے ایک گھر یاں سو صورتیں بگڑ کر اس پشت لب کے اوپر دانے عرق کے یوں ہیں یاقوت سے رکھے ہیں جوں موتیوں کو جڑ کر ناسازگاری اپنے طالع کی کیا کہیں ہم آیا کبھو نہ یاں ٹک غیروں سے یار لڑ کر اپنے مزاج میں بھی ہے میر ضد نہایت پھر مر ہی کے اٹھیں گے بیٹھیں گے ہم جو اڑ کر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR