Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

لبوں پر ہے ہر لحظہ آہ شرر بار

لبوں پر ہے ہر لحظہ آہ شرر بار جلا ہی پڑا ہے ہمارا تو گھر بار ہوئیں کس ستم دیدہ کے پاس یک جا نگاہیں شرر ریز پلکیں جگر بار کہو کوئی دیکھے اسے سیر کیونکر کہ ہے اس تن نازک اوپر نظر بار حلاوت سے اپنی جو آگاہ ہوں تو چپک جائیں باہم وے لعل شکر بار سبک کر دیا دل کی بے طاقتی نے نہ جانا تھا اس کی طرف ہم کو ہر بار گدھا سا لدا پھرتا ہے شیخ ہر سو کہ جبہ ہے یک بار و عمامہ سر بار مرے نخل ماتم پہ ہے سنگ باراں نہایت کو لایا عجب یہ شجر بار ہمیں بار اس درپہ کثرت سے کیا ہو لگا ہی رہے ہے سدا واں تو دربار یہ آنکھیں گئیں ایسی ہوکر در افشاں کہ دیکھے سے آیا تر ابر گہربار کب اس عمر میں آدمی شیخ ہو گا کتابیں رکھیں ساتھ گو ایک خربار جہاں میر رہنے کی جاگہ نہیں ہے چلا چاہیے یاں سے اسباب کر بار

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR