Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اودھر تلک ہی چرخ کے مشکل ہے ٹک گذر

اودھر تلک ہی چرخ کے مشکل ہے ٹک گذر اے آہ پھر اثر تو ہے برچھی کی چوٹ پر دھڑکا تھا دل طپیدن شب سے سو آج صبح دیکھا وہی کہ آنسوئوں میں چو پڑا جگر ہم تو اسیر کنج قفس ہوکے مرچلے اے اشتیاق سیر چمن تیری کیا خبر مت عیب کر جو ڈھونڈوں میں اس کو کہ مدعی یہ جی بھی یوں ہی جائے گا رہتا ہے تو کدھر آتی ہی بوجھیو تو بلا اپنے سر صبا وے مشک فام زلفیں پریشاں ہوئیں اگر جاتی نہیں ہے دل سے تری یاد زلف و رو روتے ہی مجھ کو گذرے ہے کیا شام کیا سحر کیا جانوں کس کے تیں لب خنداں کہے ہے خلق میں نے جو آنکھیں کھول کے دیکھیں سو چشم تر اے سیل ٹک سنبھل کے قدم بادیے میں رکھ ہر سمت کو ہے تشنہ لبی کا مری خطر کرتا ہے کون منع کہ سج اپنی تو نہ دیکھ لیکن کبھی تو میر کے کر حال پر نظر

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR