Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کر نہ تاخیر تو اک شب کی ملاقات کے بیچ

کر نہ تاخیر تو اک شب کی ملاقات کے بیچ دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ حرف زن مت ہو کسی سے تو کہ اے آفت شہر جاتے رہتے ہیں ہزاروں کے سر اک بات کے بیچ میری طاعت کو قبول آہ کہاں تک ہو گا سبحہ اک ہاتھ میں ہے جام ہے اک ہات کے بیچ سرمگیں چشم پہ اس شوخ کی زنہار نہ جا ہے سیاہی مژہ میں وہ نگہ گھات کے بیچ بیٹھیں ہم اس کے سگ کو کے برابر کیوں کر کرتے ہیں ایسی معیشت تو مساوات کے بیچ تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گذری پندگو یوں ہی نہ کر اب خلل اوقات کے بیچ زندگی کس کے بھروسے پہ محبت میں کروں ایک دل غم زدہ ہے سو بھی ہے آفات کے بیچ بے مے و مغبچہ اک دم نہ رہا تھا کہ رہا اب تلک میر کا تکیہ ہے خرابات کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR