Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کاش اٹھیں ہم بھی گنہگاروں کے بیچ

کاش اٹھیں ہم بھی گنہگاروں کے بیچ ہوں جو رحمت کے سزاواروں کے بیچ جی سدا ان ابروؤں ہی میں رہا کی بسر ہم عمر تلواروں کے بیچ چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر منھ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ ہیں عناصر کی یہ صورت بازیاں شعبدے کیا کیا ہیں ان چاروں کے بیچ جب سے لے نکلا ہے تو یہ جنس حسن پڑ گئی ہے دھوم بازاروں کے بیچ عاشقی و بے کسی و رفتگی جی رہا کب ایسے آزاروں کے بیچ جو سرشک اس ماہ بن جھمکے ہے شب وہ چمک کاہے کو ہے تاروں کے بیچ اس کے آتش ناک رخساروں بغیر لوٹیے یوں کب تک انگاروں کے بیچ بیٹھنا غیروں میں کب ہے ننگ یار پھول گل ہوتے ہی ہیں خاروں کے بیچ یارو مت اس کا فریب مہر کھائو میر بھی تھے اس کے ہی یاروں کے بیچ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR