Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت امکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزاد مرجائے تبھی چھوٹے گرفتار محبت تقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرم تھا دشمن جانی مرا اقرار محبت ہر جنس کے خواہاں ملے بازارجہاں میں لیکن نہ ملا کوئی خریدار محبت اس راز کو رکھ جی ہی میں تا جی بچے تیرا زنہار جو کرتا ہو تو اظہار محبت ہر نقش قدم پر ترے سر بیچے ہیں عاشق ٹک سیر تو کر آج تو بازار محبت کچھ مست ہیں ہم دیدئہ پرخون جگر سے آیا یہی ہے ساغر سرشار محبت بیکار نہ رہ عشق میں تو رونے سے ہرگز یہ گریہ ہی ہے آب رخ کار محبت مجھ سا ہی ہو مجنوں بھی یہ کب مانے ہے عاقل ہر سر نہیں اے میر سزاوارمحبت

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR