Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

پلکوں پہ تھے پارئہ جگر رات

پلکوں پہ تھے پارئہ جگر رات ہم آنکھوں میں لے گئے بسر رات اک دن تو وفا بھی کرتے وعدہ گذری ہے امیدوار ہر رات مکھڑے سے اٹھائیں ان نے زلفیں جانا بھی نہ ہم گئی کدھر رات تو پاس نہیں ہوا تو روتے رہ رہ گئی ہے پہر پہر رات کیا دن تھے کہ خون تھا جگر میں رو اٹھتے تھے بیٹھ دوپہر رات واں تم تو بناتے ہی رہے زلف عاشق کی بھی یاں گئی گذر رات ساقی کے جو آنے کی خبر تھی گذری ہمیں ساری بے خبر رات کیا سوز جگر کہوں میں ہمدم آیا جو سخن زبان پر رات صحبت یہ رہی کہ شمع روئی لے شام سے تا دم سحر رات کھلتی ہے جب آنکھ شب کو تجھ بن کٹتی نہیں آتی پھر نظر رات دن وصل کا یوں کٹا کہے تو کاٹی ہے جدائی کی مگر رات کل تھی شب وصل اک ادا پر اس کی گئے ہوتے ہم تو مر رات جاگے تھے ہمارے بخت خفتہ پہنچا تھا بہم وہ اپنے گھر رات کرنے لگا پشت چشم نازک سوتے سے اٹھا جو چونک کر رات تھی صبح جو منھ کو کھول دیتا ہر چند کہ تب تھی اک پہر رات پر زلفوں میں منھ چھپا کے پوچھا اب ہووے گی میر کس قدر رات

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR