Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا

آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا سمجھی نہ باد صبح کہ آکر اٹھا دیا اس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آج بے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نے دونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا سب شور ما ومن کو لیے سر میں مر گئے یاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا آوارگان عشق کا پوچھا جو میں نشاں مشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہ گئے آخر گداز عشق نے ہم کو بہا دیا کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ طالع جو تھے درست ہم کو دل شکستہ قضا نے دلا دیا گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کا اس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک جلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاں دل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا بوے کباب سوختہ آئی دماغ میں شاید جگر بھی آتش غم نے جلا دیا تکلیف درد دل کی عبث ہم نشیں نے کی درد سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میر ہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR