Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بدگمان کا

برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بدگمان کا دیکھا تو اور رنگ ہے سارے جہان کا مت مانیو کہ ہو گا یہ بے درد اہل دیں گر آوے شیخ پہن کے جامہ قرآن کا خوبی کو اس کے چہرے کی کیا پہنچے آفتاب ہے اس میں اس میں فرق زمین آسمان کا ابلہ ہے وہ جو ہووے خریدار گل رخاں اس سودے میں صریح ہے نقصان جان کا کچھ اور گاتے ہیں جو رقیب اس کے روبرو دشمن ہیں میری جان کے یہ جی ہے تان کا تسکین اس کی تب ہوئی جب چپ مجھے لگی مت پوچھ کچھ سلوک مرے بدزبان کا یاں بلبل اور گل پہ تو عبرت سے آنکھ کھول گلگشت سرسری نہیں اس گلستان کا گل یادگار چہرئہ خوباں ہے بے خبر مرغ چمن نشاں ہے کسو خوش زبان کا توبرسوں میں کہے ہے ملوں گا میں میر سے یاں کچھ کا کچھ ہے حال ابھی اس جوان کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR