Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

لخت جگر تو اپنے یک لخت روچکا تھا

لخت جگر تو اپنے یک لخت روچکا تھا اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں لے آیا ٹکڑا کوئی جگر کا پلکوں میں رہ گیا تھا اس قید جیب سے میں چھوٹا جنوں کی دولت ورنہ گلا یہ میرا جوں طوق میں پھنسا تھا مشت نمک کی خاطر اس واسطے ہوں حیراں کل زخم دل نہایت دل کو مرے لگا تھا اے گرد باد مت دے ہر آن عرض وحشت میں بھی کسو زمانے اس کام میں بلا تھا بن کچھ کہے سنا ہے عالم سے میں نے کیا کیا پر تونے یوں نہ جانا اے بے وفا کہ کیا تھا روتی ہے شمع اتنا ہر شب کہ کچھ نہ پوچھو میں سوز دل کو اپنے مجلس میں کیوں کہا تھا شب زخم سینہ اوپر چھڑکا تھا میں نمک کو ناسور تو کہاں تھا ظالم بڑا مزہ تھا سر مار کر ہوا تھا میں خاک اس گلی میں سینے پہ مجھ کو اس کا مذکور نقش پا تھا سو بخت تیرہ سے ہوں پامالی صبا میں اس دن کے واسطے میں کیا خاک میں ملا تھا یہ سرگذشت میری افسانہ جو ہوئی ہے مذکور اس کا اس کے کوچے میں جابجا تھا سن کر کسی سے وہ بھی کہنے لگا تھا کچھ کچھ بے درد کتنے بولے ہاں اس کو کیا ہوا تھا کہنے لگا کہ جانے میری بلا عزیزاں احوال تھا کسی کا کچھ میں بھی سن لیا تھا آنکھیں مری کھلیں جب جی میر کا گیا تب دیکھے سے اس کو ورنہ میرا بھی جی جلا تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR