Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا رو آشیان طائر رنگ پریدہ تھا قاصد جو واں سے آیا تو شرمندہ میں ہوا بیچارہ گریہ ناک گریباں دریدہ تھا اک وقت ہم کو تھا سر گریہ کہ دشت میں جو خار خشک تھا سو وہ طوفاں رسیدہ تھا جس صید گاہ عشق میں یاروں کا جی گیا مرگ اس شکارگہ کا شکار رمیدہ تھا کوری چشم کیوں نہ زیارت کو اس کی آئے یوسف سا جس کو مدنظر نوردیدہ تھا افسوس مرگ صبر ہے اس واسطے کہ وہ گل ہاے باغ عشرت دنیا نچیدہ تھا مت پوچھ کس طرح سے کٹی رات ہجر کی ہر نالہ میری جان کو تیغ کشیدہ تھا حاصل نہ پوچھ گلشن مشہد کا بوالہوس یاں پھل ہر اک درخت کا حلق بریدہ تھا دل بے قرار گریۂ خونیں تھا رات میر آیا نظر تو بسمل درخوں طپیدہ تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR