Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

بھلا ہو گا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہو گا

بھلا ہو گا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہو گا مآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہو گا تفحص فائدہ ناصح تدارک تجھ سے کیا ہو گا وہی پاوے گا میرا درد دل جس کا لگا ہو گا کسو کو شوق یارب بیش اس سے اور کیا ہو گا قلم ہاتھ آگئی ہو گی تو سو سو خط لکھا ہو گا دکانیں حسن کی آگے ترے تختہ ہوئی ہوں گی جو تو بازار میں ہو گا تو یوسف کب بکا ہو گا معیشت ہم فقیروں کی سی اخوان زماں سے کر کوئی گالی بھی دے تو کہہ بھلا بھائی بھلا ہو گا خیال اس بے وفا کا ہم نشیں اتنا نہیں اچھا گماں رکھتے تھے ہم بھی یہ کہ ہم سے آشنا ہو گا قیامت کرکے اب تعبیر جس کو کرتی ہے خلقت وہ اس کوچے میں اک آشوب سا شاید ہوا ہو گا عجب کیا ہے ہلاک عشق میں فرہاد و مجنوں کے محبت روگ ہے کوئی کہ کم اس سے جیا ہو گا نہ ہو کیوں غیرت گلزار وہ کوچہ خدا جانے لہو اس خاک پر کن کن عزیزوں کا گرا ہو گا بہت ہمسائے اس گلشن کے زنجیری رہا ہوں میں کبھو تم نے بھی میرا شور نالوں کا سنا ہو گا نہیں جز عرش جاگہ راہ میں لینے کو دم اس کے قفس سے تن کے مرغ روح میرا جب رہا ہو گا کہیں ہیں میر کو مارا گیا شب اس کے کوچے میں کہیں وحشت میں شاید بیٹھے بیٹھے اٹھ گیا ہو گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR