Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا عجب پل میں اگر ترک ہو اس سے جاں کا

کیا عجب پل میں اگر ترک ہو اس سے جاں کا ہو جو زخمی کبھو برہم زدن مژگاں کا اٹھتے پلکوں کے گرے پڑتے ہیں لاکھوں آنسو ڈول ڈالا ہے مری آنکھوں نے اب طوفاں کا جلوئہ ماہ تہ ابر تنک بھول گیا ان نے سوتے میں دوپٹے سے جو منھ کو ڈھانکا لہو لگتا ہے ٹپکنے جو پلک ماروں ہوں اب تو یہ رنگ ہے اس دیدئہ اشک افشاں کا ساکن کو کو ترے کب ہے تماشے کا دماغ آئی فردوس بھی چل کر نہ ادھر کو جھانکا اٹھ گیا ایک تو اک مرنے کو آبیٹھے ہے قاعدہ ہے یہی مدت سے ہمارے ہاں کا کار اسلام ہے مشکل ترے خال و خط سے رہزن دیں ہے کوئی دزد کوئی ایماں کا چارئہ عشق بجز مرگ نہیں کچھ اے میر اس مرض میں ہے عبث فکر تمھیں درماں کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR