Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

محبت کا جب روز بازار ہو گا

محبت کا جب روز بازار ہو گا بکیں گے سر اور کم خریدار ہو گا تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن کبھی یہ قیامت طرحدار ہو گا صبا موے زلف اس کا ٹوٹے تو ڈر ہے کہ اک وقت میں یہ سیہ مار ہو گا مرا دانت ہے تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھ کہوں گا تو لڑنے کو تیار ہو گا نہ خالی رہے گی مری جاگہ گر میں نہ ہوں گا تو اندوہ بسیار ہو گا یہ منصور کا خون ناحق کہ حق تھا قیامت کو کس کس سے خوں دار ہو گا عجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائل ملے گا تو صورت سے بیزار ہو گا نہ رو عشق میں دشت گردی کو مجنوں ابھی کیا ہوا ہے بہت خوار ہو گا کھنچے عہد خط میں بھی دل تیری جانب کبھو تو قیامت طرحدار ہو گا زمیں گیر ہو عجز سے تو کہ اک دن یہ دیوار کا سایہ دیوار ہو گا نہ مرکر بھی چھوٹے گا اتنا رکے گا ترے دام میں جو گرفتار ہو گا نہ پوچھ اپنی مجلس میں ہے میر بھی یاں جو ہو گا تو جیسے گنہگار ہو گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR