Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا

گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا ہم کو بن دوش ہوا باغ سے لایا نہ گیا آہ جو نکلی مرے منھ سے تو افلاک کے پاس اس کے آشوب کے عہدے سے برآیا نہ گیا گل نے ہر چند کہا باغ میں رہ پر اس بن جی جو اچٹا تو کسو طرح لگایا نہ گیا سرنشین رہ میخانہ ہوں میں کیا جانوں رسم مسجد کے تئیں شیخ کہ آیا نہ گیا حیف وے جن کے وہ اس وقت میں پہنچا جس وقت ان کنے حال اشاروں سے بتایا نہ گیا منتظر اس کے کرخت ہو گئے بیٹھے بیٹھے جس کے مردے کو اٹھایا سو لٹایا نہ گیا خطر راہ محبت کہیں جوں حرف مٹے جس سے اس طرف کو قاصد بھی چلایا نہ گیا خوف آشوب سے غوغاے قیامت کے لیے خون خوابیدئہ عشاق جگایا نہ گیا میر مت عذر گریباں کے پھٹے رہنے کا کر زخم دل چاک جگر تھا کہ سلایا نہ گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR