Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا

دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا گھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا دل میں رہ دل میں کہ معمار قضا سے اب تک ایسا مطبوع مکاں کوئی بنایا نہ گیا کبھو عاشق کا ترے جبہے سے ناخن کا خراش خط تقدیر کے مانند مٹایا نہ گیا کیا تنک حوصلہ تھے دیدہ و دل اپنے آہ ایک دم راز محبت کا چھپایا نہ گیا دل جو دیدار کا قاتل کے بہت بھوکا تھا اس ستم کشتہ سے اک زخم بھی کھایا نہ گیا میں تو تھا صید زبوں صید گہ عشق کے بیچ آپ کو خاک میں بھی خوب ملایا نہ گیا شہر دل آہ عجب جاے تھی پر اس کے گئے ایسا اجڑا کہ کسی طرح بسایا نہ گیا آج رکتی نہیں خامے کی زباں رکھیے معاف حرف کا طول بھی جو مجھ سے گھٹایا نہ گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR