Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیا

کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیا کبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گھور گیا لے گیا صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائے آنکھ اس وقت کھلی قافلہ جب دور گیا گور سے نالے نہیں اٹھتے تو نے اگتی ہے جی گیا پر نہ ہمارا سر پر شور گیا چشم خوں بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا ہم نے جانا تھا کہ بس اب تو یہ ناسور گیا ناتواں ہم ہیں کہ ہیں خاک گلی کی اس کی اب تو بے طاقتی سے دل کا بھی مقدور گیا لے کہیں منھ پہ نقاب اپنے کہ اے غیرت صبح شمع کے چہرئہ رخشاں سے تو اب نور گیا نالۂ میر نہیں رات سے سنتے ہم لوگ کیا ترے کوچے سے اے شوخ وہ رنجور گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR