Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہو گا

اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہو گا دشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہو گا اب اشک حنائی سے جو تر نہ کرے مژگاں وہ تجھ کف رنگیں کا مارا نہ ہوا ہو گا ٹک گور غریباں کی کر سیر کہ دنیا میں ان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہو گا بے نالہ و بے زاری بے خستگی و خواری امروز کبھی اپنا فردا نہ ہوا ہو گا ہے قاعدئہ کلی یہ کوے محبت میں دل گم جو ہوا ہو گا پیدا نہ ہوا ہو گا اس کہنہ خرابے میں آبادی نہ کر منعم یک شہر نہیں یاں جو صحرا نہ ہوا ہو گا آنکھوں سے تری ہم کو ہے چشم کہ اب ہووے جو فتنہ کہ دنیا میں برپا نہ ہوا ہو گا جز مرتبۂ کل کو حاصل کرے ہے آخر یک قطرہ نہ دیکھا جو دریا نہ ہوا ہو گا صد نشتر مژگاں کے لگنے سے نہ نکلا خوں آگے تجھے میر ایسا سودا نہ ہوا ہو گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR