Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

سنا ہے حال ترے کشتگاں بچاروں کا

سنا ہے حال ترے کشتگاں بچاروں کا ہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کا ہزار رنگ کھلے گل چمن کے ہیں شاہد کہ روزگار کے سر خون ہے ہزاروں کا ملا ہے خاک میں کس کس طرح کا عالم یاں نکل کے شہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا عرق فشانی سے اس زلف کی ہراساں ہوں بھلا نہیں ہے بہت ٹوٹنا بھی تاروں کا علاج کرتے ہیں سوداے عشق کا میرے خلل پذیر ہوا ہے دماغ یاروں کا تری ہی زلف کو محشر میں ہم دکھا دیں گے جو کوئی مانگے گا نامہ سیاہکاروں کا خراش سینۂ عاشق بھی دل کو لگ جائے عجب طرح کا ہے فرقہ یہ دل فگاروں کا نگاہ مست کے مارے تری خراب ہیں شوخ نہ ٹھور ہے نہ ٹھکانا ہے ہوشیاروں کا کریں ہیں دعوی خوش چشمی آہوان دشت ٹک ایک دیکھنے چل ملک ان گنواروں کا تڑپ کے مرنے سے دل کے کہ مغفرت ہو اسے جہاں میں کچھ تو رہا نام بے قراروں کا تڑپ کے خرمن گل پر کبھی گر اے بجلی جلانا کیا ہے مرے آشیاں کے خاروں کا تمھیں تو زہد و ورع پر بہت ہے اپنے غرور خدا ہے شیخ جی ہم بھی گناہگاروں کا اٹھے ہے گرد کی جا نالہ گور سے اس کی غبار میر بھی عاشق ہے نے سواروں کا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR