Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

خوبی کا اس کی بسکہ طلبگار ہو گیا

خوبی کا اس کی بسکہ طلبگار ہو گیا گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا کس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدر میں تو اسی خیال میں بیمار ہو گیا میں نودمیدہ بال چمن زاد طیر تھا پر گھر سے اٹھ چلا سو گرفتار ہو گیا ٹھہرا گیا نہ ہو کے حریف اس کی چشم کا سینے کو توڑ تیر نگہ پار ہو گیا ہے اس کے حرف زیرلبی کا سبھوں میں ذکر کیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہو گیا تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھ وہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہو گیا کیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کی دلدار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا آٹھوں پہر لگا ہی پھرے ہے تمھارے ساتھ کچھ ان دنوں میں غیر بہت یار ہو گیا کب رو ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کو میر ناکردہ جرم میں تو گنہگار ہو گیا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR