Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ایسی گلی اک شہر اسلام نہیں رکھتا

ایسی گلی اک شہر اسلام نہیں رکھتا جس کوچے میں وہ بت صد بدنام نہیں رکھتا آزار نہ دے اپنے کانوں کے تئیں اے گل آغاز مرے غم کا انجام نہیں رکھتا ناکامی صد حسرت خوش لگتی نہیں ورنہ اب جی سے گذر جانا کچھ کام نہیں رکھتا ہو خشک تو بہتر ہے وہ ہاتھ بہاراں میں مانند نئے نرگس جو جام نہیں رکھتا بن اس کی ہم آغوشی بیتاب نہیں اب ہے مدت سے بغل میں دل آرام نہیں رکھتا میں داڑھی تری واعظ مسجد ہی میں منڈواتا پر کیا کروں ساتھ اپنے حجام نہیں رکھتا وہ مفلس ان آنکھوں سے کیونکر کے بسر آوے جو اپنی گرہ میں اک بادام نہیں رکھتا کیا بات کروں اس سے مل جائے جو وہ میں تو اس ناکسی سے روے دشنام نہیں رکھتا یوں تو رہ و رسم اس کو اس شہر میں سب سے ہے اک میر ہی سے خط و پیغام نہیں رکھتا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR