Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا

اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں کب درمیاں سے وعدئہ دیدار جائے گا چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میر اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR