Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا

مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا نکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتا پیدا ہے کہ پنہاں تھی آتش نفسی میری میں ضبط نہ کرتا تو سب شہر یہ جل جاتا میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہ اک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا بن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا تو پرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا استادہ جہاں میں تھا میدان محبت میں واں رستم اگر آتا تو دیکھ کے ٹل جاتا وہ سیر کا وادی کے مائل نہ ہوا ورنہ آنکھوں کو غزالوں کی پائوں تلے مل جاتا بے تاب و تواں یوں میں کا ہے کو تلف ہوتا یاقوتی ترے لب کی ملتی تو سنبھل جاتا اس سیم بدن کو تھی کب تاب تعب اتنی وہ چاندنی میں شب کی ہوتا تو پگھل جاتا مارا گیا تب گذرا بوسے سے ترے لب کے کیا میر بھی لڑکا تھا باتوں میں بہل جاتا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR