Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا

دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا سوکھتے ہی آنسوئوں کے نور آنکھوں کا گیا بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میر دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR