Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا جانا نہیں کچھ جز غزل آکر کے جہاں میں کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیرنگیں تھا مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے کل تک تو یہی میر خرابات نشیں تھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR