Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جل گیا دل مگر ایسے جوں بلا نکلے ہے

جل گیا دل مگر ایسے جوں بلا نکلے ہے جیسے لوں چلتی مرے منھ سے ہوا نکلے ہے لخت دل قطرئہ خوں ٹکڑے جگر ہو ہوکر کیا کہوں میں کہ مری آنکھوں سے کیا نکلے ہے میں جو ہر سو لگوں ہوں دیکھنے ہو کر مضطر آنسو ہر میری نگہ ساتھ گتھا نکلے ہے پارسائی دھری رہ جائے گی مسجد میں شیخ جو وہ اس راہ کبھو مستی میں آ نکلے ہے گوکہ پردہ کرے جوں ماہ شب ابر وہ شوخ کب چھپا رہتا ہے ہرچند چھپا نکلے ہے بھیڑیں ٹل جاتی ہیں آگے سے اس ابرو کے ہلے سینکڑوں میں سے وہ تلوار چلا نکلے ہے بنتی ہے سامنے اس کے کیے سجدہ ہی ولے جی سمجھتا ہے جو اس بت میں ادا نکلے ہے بد کہیں نالہ کشاں ہم ہیں کہ ہم سے ہر روز شور و ہنگامے کا اک طور نیا نکلے ہے اجر سے خالی نہیں عشق میں مارے جانا دے ہے جو سر کوئی کچھ یاں سے بھی پا نکلے ہے لگ چلی ہے مگر اس گیسوے عنبربو سے ناز کرتی ہوئی اس راہ صبا نکلے ہے کیا ہے اقبال کہ اس دشمن جاں کے آتے منھ سے ہر ایک کے سو بار دعا نکلے ہے سوز سینے کا بھی دلچسپ بلا ہے اپنا داغ جو نکلے ہے چھاتی سے لگا نکلے ہے سارے دیکھے ہوئے ہیں دلی کے عطار و طبیب دل کی بیماری کی کس پاس دوا نکلے ہے کیا فریبندہ ہے رفتار ہے کینے کی جدا اور گفتار سے کچھ پیار جدا نکلے ہے ویسا بے جا نہیں دل میر کا جو رہ نہ سکے چلتا پھرتا کبھو اس پاس بھی جا نکلے ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR