Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

اس شوخ سے ہمیں بھی اب یاری ہو گئی ہے

اس شوخ سے ہمیں بھی اب یاری ہو گئی ہے شرم انکھڑیوں میں جس کی عیاری ہو گئی ہے روتا پھرا ہوں برسوں لوہو چمن چمن میں کوچے میں اس کے یکسر گل کاری ہو گئی ہے یک جا اٹک کے رہنا ہے ناتمامی ورنہ سب میں وہی حقیقت یاں ساری ہو گئی ہے جب خاک کے برابر ہم کو کیا فلک نے طبع خشن میں تب کچھ ہمواری ہو گئی ہے مطلق اثر نہ دیکھا مدت کی آہ و زاری اب نالہ و فغاں سے بیزاری ہو گئی ہے اس سے دوچار ہونا آتا نہیں میسر مرنے میں اس سے ہم کو ناچاری ہو گئی ہے ہر بار ذکر محشر کیا یار کے در اوپر ایسی تو یاں قیامت سو باری ہو گئی ہے انداز شوخی اس کے آتے نہیں سمجھ میں کچھ اپنی بھی طبیعت یاں عاری ہو گئی ہے شاہی سے کم نہیں ہے درویشی اپنے ہاں تو اب عیب کچھ جہاں میں ناداری ہو گئی ہے ہم کو تو درد دل ہے تم زرد کیوں ہو ایسے کیا میر جی تمھیں کچھ بیماری ہو گئی ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR