Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

کیا حال بیاں کریے عجب طرح پڑی ہے

کیا حال بیاں کریے عجب طرح پڑی ہے وہ طبع تو نازک ہے کہانی یہ بڑی ہے کیا فکر کروں میں کہ ٹلے آگے سے گردوں یہ گاڑی مری راہ میں بے ڈول اڑی ہے ہے چشمک انجم طرف اس مہ کے اشارہ دیکھو تو مری آنکھ کہاں جاکے لڑی ہے کیا اپنی شررریزی کہیں پلکوں کی صف کی ہم جانتے ہیں ہم پہ جو یہ باڑھ جھڑی ہے وے دن گئے جو پہروں لگی رہتی تھیں آنکھیں اب یاں ہمیں مہلت کوئی پل کوئی گھڑی ہے ایسا نہ ہوا ہو گا کوئی واقعہ آگے اک خواہش دل ساتھ مرے جیتی گڑی ہے کیا نقش میں مجنوں ہی کے تھی رفتگی عشق لیلیٰ کی بھی تصویر تو حیران کھڑی ہے جاتے ہیں چلے متصل آنسو جو ہمارے ہر تار نگہ آنکھوں میں موتی کی لڑی ہے کھنچتا ہی نہیں ہم سے قدخم شدہ ہرگز یہ سست کماں ہاتھ پر اب کتنی کڑی ہے گل کھائے ہیں افراط سے میں عشق میں اس کے اب ہاتھ مرا دیکھو تو پھولوں کی چھڑی ہے وہ زلف نہیں منعکس دیدئہ تر میر اس بحر میں تہ داری سے زنجیر پڑی ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR