Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

ہم مست ہو بھی دیکھا آخر مزہ نہیں ہے

ہم مست ہو بھی دیکھا آخر مزہ نہیں ہے ہشیاری کے برابر کوئی نشہ نہیں ہے شوق وصال ہی میں جی کھپ گیا ہمارا باآنکہ ایک دم وہ ہم سے جدا نہیں ہے ہر صبح اٹھ کے تجھ سے مانگوں ہوں میں تجھی کو تیرے سوائے میرا کچھ مدعا نہیں ہے زیر فلک رکا ہے اب جی بہت ہمارا اس بے فضا قفس میں مطلق ہوا نہیں ہے آنکھیں ہماری دیکھیں لوگوں نے اشک افشاں اب چاہ کا کسو کی پردہ رہا نہیں ہے منھ جن نے میرا دیکھا ایک آہ دل سے کھینچی اس درد عاشقی کی آیا دوا نہیں ہے تھیں پیش از آشنائی کیا آشنا نگاہیں اب آشنا ہوئے پر آنکھ آشنا نہیں ہے کریے جو ابتدا تو تا حشر حال کہیے عاشق کی گفتگو کو کچھ انتہا نہیں ہے پردہ ہی ہم نے دیکھا چہرے پہ گاہ و بے گہ اتنا بھی منھ چھپانا کچھ خوش نما نہیں ہے میں روئوں تم ہنسو ہو کیا جانو میر صاحب دل آپ کا کسو سے شاید لگا نہیں ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR