Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جنوں کا عبث میرے مذکور ہے

جنوں کا عبث میرے مذکور ہے جوانی دوانی ہے مشہور ہے کہو چشم خوں بار کو چشم تم خدا جانے کب کا یہ ناسور ہے فلک پر جو مہ ہے تو روشن ہے یہ کہ منھ سے ترے نسبت دور ہے گدا شاہ دونوں ہیں دل باختہ عجب عشق بازی کا دستور ہے قیامت ہے ہو گا جو رفع حجاب نہ بے مصلحت یار مستور ہے ہم اب ناتوانوں کو مرنا ہے صرف نہیں وہ کہ جینا بھی منظور ہے ستم میں ہماری قسم ہے تمھیں کرو صرف جتنا کہ مقدور ہے نیاز اپنا جس مرتبے میں ہے یاں اسی مرتبے میں وہ مغرور ہے ہوا حال بندے کا گو کچھ خراب خدائی ابھی اس کی معمور ہے گیا شاید اس شمع رو کا خیال کہ اب میر کے منھ پہ کچھ نور ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR