Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

جانے میں قتل گہ سے ترا اختیار ہے

جانے میں قتل گہ سے ترا اختیار ہے پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے ہم آپ سے گئے سو الٰہی کہاں گئے مدت ہوئی کہ اپنا ہمیں انتظار ہے بس وعدئہ وصال سے کم دے مجھے فریب آگے ہی مجھ کو تیرا بہت اعتبار ہے سرتابی اس سے طائر قدسی نہ کر سکے اس ترک صید بند کا وہ تو شکار ہے مائل نہیں ہے سرو ہی تنہا تری طرف گل کو بھی تیرے دیکھنے کا خار خار ہے پیوند میں زمیں کا ہوا اس گلی میں لیک یوں بھی کہا نہ ان نے یہ کس کا مزار ہے کل سرو ناز باغ میں آیا نظر مجھے میں نے فریب شوق سے جانا کہ یار ہے اب دیکھ کر قرار کیا کر وصال کا دل کو بغیر تیرے تنک بھی قرار ہے مت فکر خانہ سازی میں منعم ہلاک ہو بنیاد زندگانی کی ناپائدار ہے کب تک ستم کبھو تو دلاسا بھی دیجیے بالفرض میر ایسا ہی تقصیروار ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR