Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

دل بیتاب آفت ہے بلا ہے

دل بیتاب آفت ہے بلا ہے جگر سب کھا گیا اب کیا رہا ہے ہمارا تو ہے اصل مدعا تو خدا جانے ترا کیا مدعا ہے محبت کشتہ ہیں ہم یاں کسو پاس ہمارے درد کی بھی کچھ دوا ہے حرم سے دیر اٹھ جانا نہیں عیب اگر یاں ہے خدا واں بھی خدا ہے نہیں ملتا سخن اپنا کسو سے ہماری گفتگو کا ڈھب جدا ہے کوئی ہے دل کھنچے جاتے ہیں اودھر فضولی ہے تجسس یہ کہ کیا ہے مروں میں اس میں یا رہ جائوں جیتا یہی شیوہ مرا مہر و وفا ہے صبا اودھر گل اودھر سرو اودھر اسی کی باغ میں اب تو ہوا ہے تماشا کردنی ہے داغ سینہ یہ پھول اس تختے میں تازہ کھلا ہے ہزاروں ان نے ایسی کیں ادائیں قیامت جیسے اک اس کی ادا ہے جگہ افسوس کی ہے بعد چندے ابھی تو دل ہمارا بھی بجا ہے جو چپکے ہوں کہے چپکے ہو کیوں تم کہو جو کچھ تمھارا مدعا ہے سخن کریے تو ہووے حرف زن یوں بس اب منھ موندلے میں نے سنا ہے کب اس بیگانہ خو کو سمجھے عالم اگرچہ یار عالم آشنا ہے نہ عالم میں ہے نے عالم سے باہر پہ سب عالم سے عالم ہی جدا ہے لگا میں گرد سر پھرنے تو بولا تمھارا میر صاحب سرپھرا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR