Skip to content
میر تقی میر میر تقی میر

شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے

شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے جان کو کوئی کھائے جاتا ہے ہر کوئی اس مقام میں دس روز اپنی نوبت بجائے جاتا ہے کھل گئی بات تھی سو ایک اک پر تو وہی منھ چھپائے جاتا ہے یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر اپنی ٹکّی لگائے جاتا ہے رویئے کیا دل و جگر کے تئیں جی بھی یاں پر تو ہائے جاتا ہے کیا کیا ہے فلک کا میں کہ مجھے خاک ہی میں ملائے جاتا ہے تہ جنھیں کچھ ہے ان کے تیں ہر گام عرق شرم آئے جاتا ہے جاے عبرت ہے خاکدان جہاں تو کہاں منھ اٹھائے جاتا ہے دیکھ سیلاب اس بیاباں کا کیسا سر کو جھکائے جاتا ہے وہ تو بگڑے ہے میر سے ہر دم اپنی سی یہ بنائے جاتا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR